اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سفارتی کامیابیوں کی وجہ سے شکست خوردہ یہودی ریاست کے اخبار ہاآرتص نے لکھا: تہران کے ہوٹل ایکو کانفرنس کے لئے آنے والے مہمانوں سے بھرے پڑے ہیں اور انھوں نے ایران کو اپنی تنظیم کا سربراہ منتخب کیا ہے۔ تسفی ہرئیل نامی صہیونی قلمکار لکھتا ہے: صہیونی ایران کی طرف مغرب کے سفارتی دروازے کھلنے سے خوش نہیں ہیں؛ جبکہ دنیا کے ممالک نے ایران کی طرف دوڑ دوڑ کر آرہے ہیں؛ ترکی، پاکستان، ہندوستان، آذربائی جان، جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض ممالک ان ممالک کی صف میں ہیں جو ایران پر مغربی پابندیوں کے خاتمے کے بعد کے مرحلے سے فائدہ اٹھا کر اپنی پوزیش کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ برئیل نے لکھا ہے: مغربی کمپنیوں کے نمائندے مستقبل کے لئے ایران کے ساتھ معاہدے کرنے کے درپے ہیں اور حتی فرانسیسی آئل کمپنی "ٹوٹل" کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر پابندیاں نرم ہونے کے ساتھ ہی ان کی کمپنی اس ملک کے ساتھ اپنے معاہدوں کی تجدید کرے گی اور پیجوٹ اور سیٹروئن کار کمپنیاں بھی تہران کے ساتھ اپنے معاہدوں کی تجدید کریں گی۔ ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک دسمبر کے مہینے میں ایران کو فاضل پرزہ جات کی ترسیل پر لگی پابندی اٹھانے کے قابل ہوگا۔ اگلے چھ مہینوں میں فرانس ایران کے پچاس کروڑ ڈالر کی کاریں فروخت کرے گا اور جرمن کمپنیاں بھی بہت جلد ایران میں سرمایہ کاری کرنے والی مغربی کمپنیوں کی صف میں شامل ہونے والی ہیں جبکہ ایران بھی اپنی کاریں روس سمیت علاقے کے دوسرے ممالک میں برآمد کرے گا۔ برئیل لکھتا ہے: جرمن کمپنی "سیمنز" جو اس سے قبل بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی تیاری کا امکان کھوچکا ہے تاہم ممکن ہے کہ ایران مزید ایٹمی بجلی گھر بنانے کے لئے جرمنی یا جنوبی کوریا کو ترجیح دے۔ برئیل مزید لکھتا ہے: گوکہ شام کے مسئلے میں ایران اور ترکی کے درمیان کافی اختلافات ہیں لیکن ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ایران ترکی کا دوست ملک ہے اور دو ملکوں کے تعلقات کی مثال نہیں ملتی؛ ترکی ایران کے ساتھ اپنی موجودہ دوطرفہ تجارت کو 2015 میں 30 ارب ڈالر اور 2020 میں 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔ برئیل کے مطابق ترکی ایران کو سالانہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کا سونا برآمد کرتا رہا ہے جس کی سطح 2013 میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر تک گرگئی ہے اور اب توقع کی جاتی ہے ترکی کی طرف سے ایران کو سونے کی برآمدات میں ایک بار اضافہ ہوجائے۔ تسفی برئیل لکھتا ہے: ترکی روزانہ 35 ہزار بیرل تیل ایران سے درآمد کررہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ تیل کی یہ مقدار روزانہ 140000 ہزار بیرل تک پہنچائی جائے۔ جبکہ داؤد اوغلو نے پاکستان ـ ایران ـ ترکی کے درمیان ریلوے لائن کے منصوبے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ صہیونی قلم کار حسرت بھرے انداز میں لکھتا ہے: ایران کی طرف ہاتھ بڑھانے والے ممالک کی فہرست کچھ زیادہ ہی طویل ہے اور امریکی اور کینڈین ایئر کمپنیوں نے بھی ایران کے ساتھ براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لئے اپنے نمائندے ایران روانہ کئے ہیں جبکہ ایرانی نمائندے بھی ان ممالک کے دورے کررہے ہیں؛ ایران اپنے 100 مسافر بردار طیاروں کی تعمیر کا کام اگلے مہینے مکمل کرسکے گا جنہیں پابندیوں سے بہت نقصان پہنچا ہے چنانچہ انہيں دسمبر کے مہینے میں فاضل پرزہ جات پہنچنے کی توقع ہے؛ یہ امکان بھی پایا جاتا ہے کہ ایران ـ کینڈا ـ امریکہ کے درمیان براہ راست پروازیں جنوری 2014 میں شروع کی جائیں۔ برئیل لکھتا ہے کہ امریکی کمپنیاں فکرمند ہیں کہ کہیں ان کی حریف کمپنیاں اس مسابقت میں آگے بڑھ کر ایران کے ساتھ اہم قراردادیں منعقد نہ کریں کیونکہ ایران کے وزیر تیل نے کہا ہے کہ انھوں نے اٹلی، ہالینڈ اور ناروے کی بڑی تیل کمپنیوں رابطہ کیا ہے۔ برئیل کے مطابق "سعودی حکام نے بھی بالآخر کہہ ہی دیا ہے کہ ایران اور مغرب کے درمیان جوہری معاہدہ ایک اچھی تبدیلی ہے چنانچہ ایران کے وزیر خارجہ بہت عنقریب ریاض کے دورے پر جارہے ہیں کیونکہ سعودی حکام آخر کر سمجھ چکے ہیں کہ جو کارڈ ان کے ہاتھ میں ہیں ان سے کچھ حاصل ہونا ممکن نہیں ہے چنانچہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے خلاف بننے والے میں چھوٹے سے بلاک میں رہنا کچھ زیادہ مناسب نہیں ہے۔ ایران ترکی اور شام کے درمیان ثالثی کے لئے تیارترک وزیر خارجہ داؤد اوغلو نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو سے ملاقات کی ہے اور بعد ازاں انقرہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر علی رضا بیگدلی نے ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لئے ثالثی کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کے روز ترک اخبار "حریت" نے ایرانی سفیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر ترکی کی مدد کے لئے تیار ہے اور ان وسائل سے استفادہ کرکے ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لئے پوری آمادگی رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور ترکی کے درمیان نہایت مضبوط انٹیلجنس تعاون موجود ہے۔ ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے گذشتہ ہفتے اپنے دورہ تہران کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ہم آواز ہوکر شام میں عام شہریوں کا قتل عام بند ہونے پر زور دیا۔
قطر کا ایلچی بیروت کے دورے پر، شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے حزب اللہ سے ثالثی کی درخواستلبنانی اخبار "الاخبار" نے انکشاف کیا ہے کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنا ایک ایلچی بیروت روانہ کیا ہے جہاں اس نے حزب اللہ لبنان اور اسلامی مقاومت تحریک کے سربراہ سید حسن نصر اللہ یا حزب اللہ کے کسی دوسرے راہنما سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ شام کے ساتھ قطر کے دوستانہ تعلقات کی بحالی کے لئے ثالث کا کردار ادا کریں! اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قطر کی طرف سے اس کوشش کا آغاز مغربی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری مسئلے میں مفاہمت کے بعد ہوا ہے اور قطر کی حکومت اور الجزیرہ چینل شام کے سلسلے میں نرم پڑ گیا ہے اور صدر اسد کی نسبت مصالحانہ رویہ سامنے آیا ہے۔ تفصیل کے لئے لنک کلک کریں:
شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے حزب اللہ سے ثالثی کی درخواست
یورپی سفارتکاروں کی دمشق واپسی/ فیصل مقداد کی مصروفیات میں اضافہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شامی افواج کی پےدرپے کامیابیوں اور دہشت گردوں کی کامیابیوں سے ناامید ہونے کے بعد یورپی ممالک کے سفراء اور انٹیلجنس اداروں کے سربراہان نے شام کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دسمبر سے دمشق میں مقیم ایک یورپی سفیر نے کہا ہے کہ ہم نے مئی کے مہینے سے قدم بقدم دمشق واپسی کا آغاز کیا، ابتداء میں ہم خفیہ طور پر ایک دن کے لئے دمشق واپس آئے، اس کے بعد دو دنوں کے لئے اور تیسری مرتبہ تین دن کے لئے اور اب ماہناہ ایک یا دو مرتبہ دمشق آتے جاتے ہیں۔ بہرحال چیک جمہوریہ کی سفیر مسز آوا فلپی نے دمشق کو کبھی ترک نہیں کیا اور آسٹریا، رومانیہ، اسپین، سویڈن، ڈنمارک کے نمائندے اور یورپی اتحاد کا ناظم الامور منظم انداز سے شام کے دارالحکومت میں موجود ہیں اور ان میں سے بعض نے تین دن قبل شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد کے ساتھ ملاقات میں شرکت کی ہے!
تفصیل کے لئے کلک کریں:
یورپی سفارتکاروں کی دمشق واپسی/ فیصل مقداد کی مصروفیات میں اضافہ
حماس: ہم بدستور محاذ مزاحمت کا حصہ رہیں گے حماس کے ایک سینئر راہنما محمود الزہار نے ان رپورٹوں کی شدت سے تردید کی ہے کہ حماس محاذ مزاحمت کے رکن ممالک کے جرگے سے خارج ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سینئر لیڈر محمود الزہار نے "فلسطینی ایشو کے ساتھ یوم ابلاغی یکجہتی" کے موقع پر المنار چینل کی ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: شام کے مسئلے میں حماس کے بعض راہنماؤں کے موقف کی وجہ سے تصور کیا گیا کہ گویا حماس محاذ مزاحمت سے خارج ہوگئی ہے اور دشمن کے خلاف استقامت کو ترک کرگئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حماس تحریک اپنے موقف پر بدستور قائم ہے اور ہم ایسی تحریک ہیں جو ہر اس فوت کی تائید و حمایت کرتے ہیں جو قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت کے راہ پر گامزن ہے۔ الزہار نے کہا: ان قوتوں کی حمایت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایک اتحاد میں شامل ہوں یا ان کے ساتھ سیاسی تعاون کررہے ہوں لیکن اس کے باوجود جو بھی صہیونی ریاست کی توسیع پسندی اور ممالک پر قبضے کے مقابلے میں ڈٹ جائے اور فلسطین اور اس کی مزاحمت کی حمایت کرے ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں۔
تفصیل کے لئے کلک کریں:
حماس: ہم بدستور محاذ مزاحمت کا حصہ رہیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭
شامی دہشت گردوں اور اردن سرکار کے درمیان چپقلش / مغرب بھی شام کی جانب مائل!